تازہ ترین
صفحہ اول » اردو کالم » ایک بوڑھی عورت حکیم کے پاس گئی اور کہاحکیم جی میری بینائی دن بہ دن کم ہورہی ہے براہ مہربانی میرا علاج کیجئے

ایک بوڑھی عورت حکیم کے پاس گئی اور کہاحکیم جی میری بینائی دن بہ دن کم ہورہی ہے براہ مہربانی میرا علاج کیجئے

A woman went to Wise khahkym g reducing my vision or my treatment day by day pleaseایک بوڑھی عورت حکیم کے پاس گئی اور کہاحکیم جی میری بینائی دن بہ دن کم ہورہی ہے

ایک بوڑھی عورت کی بینائی کم ہوگئی۔اندھے ہونے کے خیال سے وہ علاج کے لیے ایک حکیم کے پاس گئی اور کہا۔
حکیم جی! میربینائی دن بہ دن کم ہورہی ہے۔براہ مہربانی میرا علاج کیجئے۔ ایسا نہ ہوکہ میں اندھی ہو جاؤں۔اگر میری بینائی ٹھیک ہوگئی تو منہ مانگی دولت آپ کو ملے گی۔خدا کا دیا سب ہے میرے پاس لیکن یادرکھو ،بینائی درست نہ ہونے کی صورت میں ایک پائی بھی نہ دوں گی۔
اس شرط کو حکیم نے منظور کر لیا۔ہر روزعلاج کے لیے بڑھیا کے گھر جاتا ۔آنکھیں دھوکردوا دارو ڈالتا لیکن اپنی بدعادت کے ہاتھوں مجبور ہوکر روزانہ کوئی نہ کوئی چیز بڑھیا کے گھر سے چرالاتا۔حکیم کے مسلسل علاج سے بڑھیا کی بینائی تو ٹھیک ہوگئی لیکن اس عرصہ میں اس کے مکمل گھر کا صفایاکردیا۔ایک دن حکیم نے بڑھیا سے اپنی اجرت مانگی تو بڑھیا بولی۔
” اجرت کیسی؟ تو نے میرا بھرا بھرایا صاف کردیا۔ایک تنکا نہ چھوڑا اور اوپر سے اجرت طلب کرتا ہے۔میں تو تیری خبر جوتیوں سے لوں گی۔“ حکیم نے بڑھیا کی خلاف دعوی دائر کردیا۔قاضی نے بڑھیا کو عدالت طلب کیا اور سوال کیا کہ وہ حکیم کی اجرت کیوں ادا نہیں کرتی؟ بڑھیا نے سارا احوال قاضی کو سنایا اور کہا۔” بے شک میں نے اس سے معائدہ کیاتھا کہ بینائی درست ہونے کی صورت میں منہ مانگی اجرت دوں گی۔اس نے میرا علاج تو کیا لیکن اب میرا حال اتنا ابتر کردیا کہ پہلے تو میں ہر شے گھر کی دھندلی پاتی تھی لیکن اب مجھے کوئی شے نظر نہیں آتی۔
حاصل کلام؛کسی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانا درحقیقت اپنا نقصان کرنا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون/ خبر پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

مصنف: سارہ خان