تازہ ترین
صفحہ اول » ضابطہ اخلاق

ضابطہ اخلاق

پاکستان نیوز ٹوڈے‎  سے وابستہ تمام اراکین اس ضابطہ اخلاق کے پابند رہیں گے  جس کی نقل ذیل میں بیان کی جارہی ہے۔ کسی بھی قسم کی شکایت کے لیے ہم سے رابطہ فرمائیے۔ پریس سے وابستہ افراد کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بلند ترین پیشہ ورانہ معیارات برقرار رکھیں گے۔ وہ ضوابط جس میں یہ تعارفی نوٹ بھی شامل ہے اور عوامی مفاد کی شقیں بھی جو نیچے بیان کی جارہی ہیں، یہ دونوں ملکر ان اخلاقی اقدار کا تعین کرتے ہیں جن کے تحت کسی کے انفرادی حقوق اور عوام کے جاننے کے حق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کے تحت ایک خود نگہداری کا نم بنتا ہےاوراس سے (صحافتی) صنعت وابستگی کا اظہار کرتی ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ متقفہ ضابطے کے نہ صرف الفاظ بلکہ اس کی مکمل روح کا بھی احترام کیا جائے۔ اسے نہ تو اتنا تنگ ہونا چاہیے کہ انفرادی حقوق کے تحفظ کے وعدے پر حرف آئے اور نہ ہی اتنا پھیلایا جائے کہ یہ آزادی اظہار کے ساتھ غیر ضروری خلل پیدا کرے یا شائع شدہ مواد کو عوامی مفاد سے دور رکھے۔ یہ ناشر(پبلشر) اور مدیران ( ایڈیٹرز) کی ذمے داری ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق کو پرنٹ اور آن لائن دونوں ورژنز پر لاگو کریں۔ انہیں اس بات کو یقینی بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ پرنٹ اور آن لائن صحافت سے وابستہ افراد یعنی نہ صرف  ایڈیٹوریل اسٹاف بلکہ اس سے باہر کے افراد بشمول غیرصحافی بھی اس پر سختی سے عمل پیرا رہیں ۔

درستگی
پریس کے لیے ضروری ہے کہ وہ غلط ، گمراہ کن، اور مسخ شدہ معلومات اور تصاویر شائع نہ کرے۔ اگر غیرمعمولی غلطی، گمراہ کن بیان اور حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا عمل سامنے آئے تو اسے فوری طور پر درست کرکے واضح کیا جائے اور اگر ضروری ہے تو معذرت بھی شائع کی جائے۔ پریس حمایت کرنے میں آزاد ہے لیکن اسے حقائق، بیانات اور نتائج کے درمیان فرق کو واضح رکھنا ہوگا۔ کسی کی ہتکِ عزت کی صورت میں اگر پریس فریق ہے تو ضروری ہے کہ اس کی وضاحت میں درستگی اور غیرجانبدارانہ انداز اختیار کیا جائے اس وقت تک کہ جب تک کہ کوئی متقفہ مفاہمتی معاہدہ سامنے نہیں آجاتا یا  جب کوئی معاہدہ سامنے آجائے تو اسے بھی شائع کیا جائے۔

جواب کے مواقع فراہم کرنا
(اشاعتی) غلطیوں کی صورت میں جواب اور وضاحت کے بھر پور مواقع لازمی فراہم کئے جائیں۔

پرائیویسی
صحافی پر لازمی ہے  کہ وہ ہر شخص خواہ مرد ہو یا عورت کے نجی اور خاندانی معاملات، گھریلو، صحت اور ڈجیٹل روابط سمیت دیگر رابطوں کا احترام کرے۔ ایڈیٹروں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ بلا اجازت کسی کی ذاتی زندگی میں دخل انداز ہونے کی صورت میں اس کی وضاحت کریں گے۔  بصورتِ دیگر شکایت کنندہ کی جانب سے اس کی ذاتی معلومات عوام میں افشا کرنے پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔ پرائیوٹ مقامات پر کسی شخص کی اجازت کے بنا اس کی تصویر لینا کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں۔

ہراساں کرنا
صحافی کو کسی کو ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے یا خوفزدہ کرنے کے عمل میں ملوث نہیں ہونا چاہئے۔ اگر کوئی شخص فون کرنے، تصویرلینے اور سوال کرنے سے منع کردے تو صحافی کو بھی رک جانا چاہیے۔ اگر وہ اپنی جگہ یا مکان پر صحافی کو مزید ٹھہرنے سے منع کرے تو اسے باہر آجانا چاہیے اور اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے۔ ایڈیٹرز کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان اصول و ضوابط کو ان افراد پر بھی لاگو کریں جو ان کے لیے کام کررہے ہیں اوراس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کسی دوسرے ذرائع سے ایسا مواد تو نہیں لارہے جو (اخلاقی ضوابط) کے تحت ناقابلِ عمل ہے۔

غم ذدہ اور سنجدیدہ ماحول میں دخل اندازی
ذاتی اور شخصی صدمے اور غم کی صورتحال میں صحافی کا رویہ ہمدردانہ اوررحمدلانہ ہونا چاہئے اور اسے شائع کرتے وقت معاملے کی حساسیت کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسے قانونی چارہ جوئی میں کسی رکاوٹ کی وجہ نہیں بننا چاہئے۔ خودکشی کے واقعہ کی رپورٹنگ کرتے وقت خودکشی کے عمل کی غیرضروری اور اضافی تفصیل بیان کرنے سے گریز کیا جائے۔

بچے
نوعمر بچوں کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ کسی غیرضروری مداخلت کے بغیر اسکول میں اپنا وقت مکمل کریں۔ کوئی بچہ جس کی عمر 16 سال سے کم ہو اس سے اس کے ذاتی اور دوسرے بچے کے معاملے پر انٹرویو نہ کیا جائے اور نہ ہی اس وقت تک تصاویر لی جائیں جب تکہ اس کے والدین سامنے نہ ہوں یا ان کی اجازت نہ مل جائے۔ اسکول انتظامیہ کی اجازت کے بغیر نہ ان بچوں کی تصاویر لی جائیں اور نہ ہی ان سے بات کی جائے۔ جب تک بچے کی دلچسپی واضح نہ ہو ، اس وقت بچوں کی فلاح کے لیے کسی چیز کی خریداری کے لیے رقم نہ دی جائے، اورنہ ہی والدین اور سرپرستوں کو کوئی رقم فراہم کی جائے۔ ایڈیٹروں کے نزدیک کسی بچے کی ذاتی زندگی پر تفصیلات شائع کرنے کا جواز اس کے والدین یا سرپرست کی مثبت اور منفی شہرت اور معاشرتی مقام نہیں ہونا چاہیے۔

بچے اور جنسی کیسز
خواہ اس کی قانونی اجازت بھی  ہو تب بھی پریس 16 سال سے کم عمر کے ایسے بچے کی شناخت ظاہر نہ کرے جس پر جنسی حملہ کیا گیا ہویا پھر وہ کسی واقعہ کے عینی شاہد ہوں۔ اگر جنسی حملے کا کوئی واقعہ ہو تو خیال رہے کہ : بچے کی شناخت ظاہر نہ کی جائے۔ بالغ کی شناخت ظاہر کی جاسکتی ہے۔ خونی رشتوں کی جانب سے جنسی حملے کی صورت میں ’انسیسٹ‘ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے تاہم بچے کی شناخت ظاہر کی جاسکتی ہے۔ اپنی رپورٹ میں احتیاط رکھیے کہ رپورٹنگ میں ملزم اور بچے کے درمیان تعلق کو ظاہر نہ کیا جائے۔

عوامی مفاد
مندرجہ ذیل عوامی مفادات ہوسکتے ہیں لیکن یہ صرف اسی تک محدود نہیں

جرم کی شناخت اور بے نقاب کرنا یا سنجیدہ اور گھمبیر صورتحال سے پردہ اُٹھانا
عوامی صحت اور سلامتی کا تحفظ
کسی فرد یا ادارے کے بیان اور عمل سے عوام کو گمراہ ہونے سے بچانا
اظہارِ رائے کی آزادی خود ہی عوامی مفاد کا ایک حصہ ہے ۔
جب بھی عوامی مفاد پیشِ نظر ہو پریس کو ایسے ایڈیٹرز درکار ہوتے ہیں جو اس بات کا خیال رکھیں کہ جو کچھ وہ بیان کررہے ہیں یا شائع کرنے جارہے ہیں یا اسے شائع کرنے پر غور کررہے ہیں وہ کس طرح اور کیسے عوامی مفاد میں ہوگا ۔

پاکستان نیوز ٹوڈے عوامی دسترس میں موجود معلوماتی مواد کی مزید توسیع کے لیے کوشش کرتا رہے گا اور اسے مزید عوامی رسائی تک لائےگا۔
ایڈیٹرز 16 برس سے کم عمر کے بچوں کے مفادات کو عوامی مفادات پر مقدم رکھیں گے۔


جواب کے مواقع فراہم کرنا
(اشاعتی) غلطیوں کی صورت میں جواب اور وضاحت کے بھر پور مواقع لازمی فراہم کئے جائیں۔

پرائیویسی
پاکستان نیوز ٹوڈے