تازہ ترین
صفحہ اول » پاکستان » پاکستان کیلئے خطرناک ترین ممالک کونسے ہیں ۔۔۔؟

پاکستان کیلئے خطرناک ترین ممالک کونسے ہیں ۔۔۔؟

What are The Most Dangerous Countries for Pakistan

پاکستان کے لئے خطرناک ممالک

اسرائیل
 ایران
بھارت
 امریکہ

موجودہ دنیا میں صرف دو ممالک ایسے ہیں جو مذہبی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آئے ہیں۔ ایک پاکستان دوسرا اسرائیل۔ پاکستان ایک جمہوری، آئینی اور قانونی جد و جہد کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے جبکہ اسرائیل دنیا کے ہر مہذب ضابطے کے مطابق ایک ناجائز ریاست ہے۔ یہ فلسطین کی مقبوضہ زمین ہے جس پر یہ ریاست کھڑی کی گئی۔ یہ قبضہ اسقدرسنگین جرم تھا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے خود اسرائیل کے وجود کو چیلنج کرکے مشرق وسطیٰ کے لئے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ متعین کردیا تھا اور پاکستان اپنی پوری تاریخ میں اپنے بانی کے اس متعین کردہ رخ پر پورے تسلسل سے چلا آرہا ہے۔ چونکہ اسرائیل مسلسل مسلمانوں کی زمین قبضہ کرتا رہا اور صاف صاف ان عزائم کا اظہار کرتا آیا ہے کہ وہ اپنی ریاستی حدود کو لگ بھگ پورے مشرق وسطیٰ تک پھیلائے گا اور چونکہ اسرائیل نے نہرو کے دور میں ہی بھارت سے خفیہ تعلقات قائم کر لئے اور یہ تعلقات عسکری تعاون کے سوا کچھ نہ تھے اس لئے دو باتیں واضح ہوگئی تھیں۔

پہلی یہ کہ چودہ سو سال میں پہلی بار مسلمانوں کے دونوں مقدس ترین مقامات یعنی حرمین شریفین کو سنگین ترین خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور خطرہ بھی ایسا جس کی پشت پناہی کے لئے دنیا کے دو طاقتور ترین ممالک امریکہ و برطانیہ اپنے تمام سیاسی، معاشی و عسکری وسائل کے ساتھ موجود ہیں۔ اگر پاکستان اس خطرے کے راستے میں کھڑا نہیں ہوتا تو اس کا اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنا ہی ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں رہے گا۔ دوسری بات یہ کہ اسرائیل نے بھارت سے اپنے تعلقات خفیہ کیوں رکھے ہیں ؟ اور یہ صرف عسکری میدان میں کیوں پیش رفت کر رہے ہیں ؟اسرائیل نے بھارت سے اپنے تعلقات خفیہ کیوں رکھے ہیں ؟اس کی وجہ یہ تھی کہ اسرائیل کے وجود کو قائد اعظم اور مہاتما گاندھی دونوں نے ہی مسترد کیا تھا اور گاندھی جی کا موقف بڑا اصولی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تو مذہب کے نام پر معرض وجود میں آنے والے پاکستان کی مخالفت کرتے رہے ہیں تو ہم سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ مذہب ہی کے نام پر وجود میں آنے والے اسرائیل کو قبول کر لینگے ؟۔

مگر ہوا یہ قائد اعظم کے انتقال کے بعد انکے جانشینوں نے تو اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی برقرار رکھی لیکن گاندھی جی کے بعد نہرو نے فورا پالیسی بدل کر اسرائیل کو تسلیم کر لیا اور باور یہ کرایا کہ بس تسلیم ہی کیا ہے سفارتی تعلقات ہم نہیں رکھ رہے جبکہ درحقیقت بہت ہی اعلیٰ سطح کے انتہائی خفیہ تعلقات قائم کر لئے گئے تھے اور پہلے ہی دن سے ان تعلقات میں عسکری تعاون سب سے اہم ایجنڈہ تھا۔ اس وقت تک بھارت کی صرف پاکستان سے دشمنی تھی اس چائنا سے ابھی اس کی کوئی بھی ٹسل شروع نہیں ہوئی تھی جو کہ معرض وجود میں ہی 1948ء کی پاک بھارت جنگ کے ایک سال بعد آیا تھا اور اگر ہم دیکھیں تو آگے چل کر اسرائیل کے چین سے بھی عسکری تعلقات قائم ہوئے جس سے ظاہر ہے کہ اسرائیل کے بھارت سے 1992ء تک چلنے والے خفیہ تعلقات کا تعلق صرف اور صرف پاکستان سے تھا۔ ان دو وجوہات کی بنیاد پر پاکستان نے اسرائیل کو اپنا دشمن نمبر ایک قرار دیدیااور طے کر لیا کہ جب بھی اسرائیل خود کو مزید وسعت دینے اور مسلمانوں کی زمین پر بتدریج قبضہ بڑھاتے بڑھاتے خود کو حرمین کے قریب لانے کی کوشش کرے گا تو پاکستان سفارتی و عسکری دونوں میدانوں میں مزاحمت کے لئے اترے گا۔چنانچہ آگے چل کر دونوں عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان اسرائیل کے خلاف میدان جنگ میں آیا اور کوئی ڈھکا چھپا بھی نہیں آیا بلکہ اپنے اقدام کو دنیا پر واضح کر کے صاف میسج دیدیا کہ اسرائیل جس توسیع کے خواب دیکھ رہا ہے اس کے لئے اسے صرف عربوں سے ہی نہیں پاکستان سے بھی جنگ لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اسرائیل کے حوالے سے یہ دو ٹوک اور جارحانہ موقف نہ رکھتا تو یقین کیجئے اسرائیل کب کا ان لولی پوپ ٹائم عرب ریاستوں کو ہڑپ کر چکا ہوتا۔ کیا دنیا نے دیکھا نہیں کہ پہلی عرب اسرائیل جنگ میں اس نے صرف ایک دن میں پوری کی پوری مصری فضائیہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا۔

پاکستان اسرائیل کے حوالے سے کوئی جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اس کے وجود اور اسکے قبضہ کئے ہوئے علاقوں کے حوالے سے پاکستان صرف سفارتی کوشش کی پالیسی پر کار بند ہے لیکن اگر وہ گریٹر اسرائیل بننے کی غرض سے اپنی موجودہ حدود سے نکلنے کی کوشش کرے گا تو حالات کے تقاضوں کے مطابق پاکستان کی تینوں مسلح افواج میں سے کسی ایک، کسی دو یا تینوں کو سعودی عرب میں اپنا منتظر پائے گا۔ حرمین کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی اتنی واضح اور دو ٹوک ہے کہ حالیہ بحران میں پاکستان نے نام لئے بغیر ایران پر بھی واضح کردیا ہے کہ سعودی سرحد اس کے اور پاکستان کے مابین ریڈ لائن کا درجہ رکھتی ہے جو بھی اس ریڈ لائن کو عبور کرے گا پاکستان کو اپنے تمام وسائل سمیت سعودی عرب میں موجود پائے گا۔ میں ذاتی طور پر اس بات پر فخر محسوس کرتا ہوں کہ اللہ نے حرمین کے تحفظ کا کلیدی کردار میرے وطن کے نصیب میں لکھا ہے اور ہماری مسلح افواج نہ صرف ارض وطن بلکہ بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی بھی سب سے مضبوط محافظ ہیں۔ یہ تو قدرت کے فیصلے ہیں ، کبھی ابابیلوں سے یہ ڈیوٹی لے لی جاتی ہے تو کبھی پاکستان آرمی کے نصیب میں یہ ذمہ داری لکھدی جاتی ہے۔

ایران پاکستان کی خارجہ پالیسی میں خطرناک ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بھارت کی طرح ایرانی قوم سے پاکستان کو کوئی مسئلہ درپیش ہے یا دونوں ممالک میں کوئی علاقائی تنازعہ ہے جس سے قومی سطح کی کوئی دشمنی چلی آرہی ہے بلکہ بھارت کے برخلاف ایران سے پاکستان کو درپیش خطرات کا تعلق انقلاب کے بعد برسر اقتدار آنے والے مذہبی عناصر سے ہے۔ اگر آپ ایران کے انقلابیوں کی تاریخ کا بغور جائزہ لیں تو پچھلے پینتیس سال کے دوران ان کی یہ پالیسی پورے تسلسل سے چلی آرہی ہے کہ اپنا انقلاب صرف ایران تک نہ رکھا جائے بلکہ اسے پڑوسی ممالک میں ایکسپورٹ کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے وہ جائز ناجائز ہر طرح کے حربے آزمانے پر یقین رکھتے ہیں ۔ پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کروانا، عدم استحکام پیدا کئے رکھنااور اس کے نتیجے میں بغاوت کرانا اس رجیم کی اہم ترین حکمت عملی ہے۔ اس مقصد کے لئے پڑوسی ممالک میں واقع اپنے ثقافتی مراکز (خانہ فرہنگ) میں ورکشاپس کرائی جاتی ہیں جو بظاہر فارسی زبان کی ترویج اور تہذیبی، ثقافتی اور تعلیمی نوعیت کی ہوتی ہیں لیکن ان کے شرکاء میں سے ہی کام کے بندے چن لئے جاتے ہیں اور انہیں زائرین کی شکل میں ایران لے جایا جاتا ہے جہاں پاسداران انقلاب انہیں عسکری تربیت فراہم کرتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پینتیس برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو ایران میں عسکری تربیت دی گئی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پینتیس برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو ایران میں عسکری تربیت دی گئی ہے۔

پاکستان کے چار علاقے ایسے ہیں جہاں سے نہ صرف بڑی تعداد میں ریکروٹمنٹ کی گئی ہے بلکہ ان علاقوں کو بارود کا ڈھیر بھی بنا دیا گیا ہے۔ ان میں گلگت، پاڑہ چنار، کویٹہ اور کراچی شامل ہیں۔ پاکستان میں ایرانی مفادات کا پہلا نگہبان علامہ عارف حسین الحسینی تھا جس نے پاڑہ چنار کو دہشت گردی کے اہم مرکز میں تبدیل کردیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے نہ صرف پاڑہ چنار میں ایک بے رحم خفیہ فوجی آپریشن کروایا بلکہ عارف حسینی بھی نہ رہا۔ ایران کی جانب سے 80 کی دہائی میں نہ صرف یہ کہ اسلام آباد پر قبضے کے لئے پارلیمنٹ اور پاک سیکریٹیریٹ کا محاصرہ کیا گیا بلکہ کوئٹہ میں 6 جولائی 1986ء کو بدترین قتل عام بھی کیا گیا جس میں شہر کو لوٹا بھی گیا۔ اس واقعے میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے بڑی تعداد میں پاسداران انقلاب کے اہلکار گرفتار کئے جنہیں ایران سے مذاکرات کے بعد اس کے حوالے کیا گیا ۔ خود ایرانی مؤرخین نے عارف حسین الحسینی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے امام خمینی کا مشن عام کرنے کے لئے شاندار خدمات انجام دیں۔ عارف حسینی کے بعد یہ ذمہ داریاں علامہ ساجد نقوی کو سونپی گئیں جو ریکروٹمنٹ تو کراتے رہے لیکن پاکستان میں کوئی بڑا واقعہ کرانے میں ناکام رہے۔ چنانچہ ان سے مایوس ہوکر اب پاکستان میں یہ ذمہ داریاں امین شھیدی اور اس کی مجلس وحدت المسلمین کو سونپی گئی ہیں۔اگر آپ امین شھیدی کی پھرتیاں دیکھیں تو آپ کو اندازہ لگانے میں مشکل پیش نہیں آئیگی کہ وہ کچھ بڑا “ڈیلیور” کرنے کو کسقدر بے قرار ہیں۔ امین شھیدی کے چارج سنبھالنے کے بعد دو چیزوں میں تیزی آئی۔ ایک یہ کہ کوئٹہ میں ہزارہ آبادی بہت تیزی سے بڑھنے لگی اور دوسری یہ کہ اٹھارہ سے تیس سال کے زائرین کا ایران آنا جانا یکایک بہت بڑھ گیا۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران افغانستان اور ایران سے کوئٹہ لا کر بسائے جانے والے ہزارہ قوم کے افراد کی تعداد اکیس ہزار بتائی جاتی ہے جنہیں نادرہ کے جعلی آئی ڈی کارڈ زفراہم کرکے پاکستانی شہری بنایا جا چکا۔

پاکستان کی قومی سلامتی کے ادارے ان چیلنجز سے پوری دانشمندی سے نمٹ رہے ہیں لیکن اپنی سر زمین پر اور یہ نمٹنا اسقدر مؤثر ہے کہ اب ایران نے باقاعدہ تلملانا بھی شروع کردیا ہے۔ وہ نہ صرف پاک ایران باڈر پر ایف سی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ کچھ عرصہ قبل ایران میں اغوا ہونے والے اپنے فوجیوں کے اغوا میں بھی پاکستان کو ملوث کرنے کی ناکام کوشش کر چکا حالانکہ اغوا کار پاکستان سے سینکڑوں کلومیٹر دور اافغان باڈر کے قریب ایران میں ہی موجود تھے اور ایران نے اغوا کاروں کے ساٹھ قیدیوں کے بدلے میں اپنے فوجی چھڑائے تھے۔ حالیہ عرصے میں اگر آپ گزشتہ برس کراچی آپریشن کے دوران اسے لیڈ کرنے والے ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات کی پریس کانفرنس دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کراچی کی ٹارگٹ کلنگز میں صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ براہ راست ایران بھی ملوث ہے۔ شاہد حیات نے اپنی پریس کانفرنس میں ایران کا نام لے کر تفصیل بتائی تھی۔لیکن جب امین شھیدی جیسے لوگ دھرنے کی کال دیتے ہیں تو انہیں بس اتنے ہی لوگ میسر آتے ہیں کہ چار بانسوں والا ایک شامیانہ انکے لئے کافی ہوتا ہے۔

پاکستان کے حوالے ایران کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان کی نوے فیصد شیعہ آبادی اس کے ایجنڈے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتی اور اپنے وطن کی سلامتی کے لئے پر عزم ہے۔ چانچہ اگر آپ غور کریں تو محرم یا دیگر تاریخوں کی مذہبی ایکٹوٹیز میں تو پاکستان کے لاکھوں شیعہ سڑکوں پر نظر آتے ہیں لیکن جب امین شھیدی جیسے لوگ دھرنے کی کال دیتے ہیں تو انہیں بس اتنے ہی لوگ میسر آتے ہیں کہ چار بانسوں والا ایک شامیانہ انکے لئے کافی ہوتا ہے۔ یاد رکھئے ایرانی انقلاب سے قبل پاکستان میں کوئی شیعہ سنی جھگڑہ نہ تھا اس جھگڑے اور مسلح فرقہ واریت” کی بنیاد ایران نے ڈالی ہے اور ایران میں جب تک موجودہ رجیم ہے تب تک یہ “مسلح فرقہ واریت” ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ ایران امریکہ سے دوستی کے بعد پڑوسی ممالک میں بغاوتیں کرانے کی کوششوں میں بے پناہ تیزی لاچکا ہے۔ یاد رکھئے کہ ایران اور اسرائیل دشمن ممالک ہرگز نہیں ہیں انکے بابین ہونے والی ہوائی فائرنگ ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ایران عراق جنگ کے دوران ایران اسرائیل سے اینٹی ٹینک میزائیل تک خریدتا رہا ہے جسکی ڈیلیوری 1985ء میں شروع ہوئی اور آخری شپمنٹ 1986ء میں تبریز ایئربیس پر اتری۔ اپنا انقلاب عسکری بنیادوں پر پاکستان ایکسپورٹ کرنے کی سرتوڑ کوششوں، پاکستان میں دہشت گردی کے سنگین واقعات میں مسلسل ملوث ہونے اور پاکستان میں بغاوت کی تین ناکام کوششوں کے سبب پاکستان کی خارجہ و ڈیفنس پالیسی میں ایران کو دوسرے بڑے چیلنج کے طور پر رکھا گیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون/ خبر پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

مصنف: سعید احمد