تازہ ترین
صفحہ اول » بھارت » اس سال تک کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل جائیگا

اس سال تک کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل جائیگا

Kashmir will go out of India By This Year

بھارت کی سابق مذاکرات کار برائے مقبوضہ کشمیر پروفیسر رادھا کمار نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے کشمیر مسئلے کا منا سب حل نہ نکالا تو اگلے 10 سال میں مقبوضہ کشمیر اسکے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔کشمیری میڈیا کے مطابق نئی دلی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق بھارتی مذاکرات کار برائے مقبوضہ کشمیر پروفیسر رادھا کمار نے کہا کہ اگرکشمیر مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیاتو اگلے 10 برس میں بھارت کشمیر کو کھو سکتا ہے۔جب کہ برہان وانی کی برسی قریب آنے پر پوری وادی میں احتجاجی مظاہرے بڑھتے جارہے ہیں جنھوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ وادی میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر بھارتی فورسز نے بہت سے حریت پسند رہنماؤں کو نظر بند کر دیاہےاسکے علاوہ علاقے میں موبائل فون سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔ تاہم صورتحال کو مکمل قابو میں رکھنے کیلئے اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جا چکی ہے۔ اسکے علاوہ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے رہنما شبیر شاہ نے کشمیری مجاہد برہان وانی کی برسی کے موقع پر برہان وانی کو تمغہ جرات دینے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب غیرملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پر وادی کےحالات کافی بگڑ چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں آج معروف کشمیری نوجوان رہنماء برہان مظفر وانی کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر قابض انتظامیہ نے بھارتی فورسز کو ہائی الرٹ کرنے کے علاوہ فورسز کی اضافی نفری تعینات ،کرفیو اورسخت پابندیاں عائد اور موبائیل اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے گزشتہ سال 8جولائی کو ایک جعلی مقابلے میں برہان وانی اور انکے دو ساتھیوںکو شہیدکردیاتھا ۔ سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے برہان مظفر وانی کے یوم شہادت پر ہفتہکو ہڑتال کی کال دی ہے ۔ انتظامیہ نے بھارتی فورسز کو ہائی الرٹ کردیا ہے جبکہ حسا س علاقوں میں فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کرنے کے علاوہ سخت پابندیاں عائد اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹوں اور موبائیل اور انٹرنیٹ سرو س کو منقطع کردیا گیاہے۔

مظفر وانی کی برسی کے موقع پر کشمیری عوام کو احتجاجی مظاہرے کرنے سے روکنے کیلئے پوری وادی بالخصوص جنوبی کشمیر کے4اضلاع پلوامہ، اسلام آباد ، کولگام اور شوپیان میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کو تعینات کیاگیا ہے جبکہ ترال میں اکیس ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ قصبے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے ۔سرینگر ، بارہمولہ ، شوپیاں ، خانیار، رعنا واری ، مہاراج گنج ، صفا کدل اور نوہٹہ میں سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔وادی بھر میں ہزارں موٹر سائیکلوں کو بھی پکڑ لیا گیا ہے۔انتظامیہ نے حریت رہنماؤں سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق ، محمد یاسین ملک ،شبیر احمد شاہ ، محمد اشرف صحرائی ، ظفر اکبربٹ ، مختار وازہ اور دیگر کو احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں اور جیلوں میں نظربند کردیا ہے ۔ادھربھارتی سیکریٹری داخلہراجیو مہاریشی نے نئی دلی میں صحافیوںکو بتایا ہے کہ ’’ کشمیر میں ہم کسی بھی صورتحال سے نپٹنے کیلئے تیار ہیں جبکہ بھارت نے امرناتھ یاترا کے بیچ 8جولائی کو ممکنہ صورتحال سے نپٹنے کیلئے بھارتی فورسز کی214اضافی کمپنیاں بھی کشمیر بھجوائی ہیں۔آئی جی کشمیر منیرا حمدخان کی طرف سے جاری حکم نامہ میں انٹرنیٹ فرہم کرنے والی کمپنیوں کو انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی تمام ویب سائیٹس کو بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون/ خبر پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔