تازہ ترین
صفحہ اول » صحت » ایک جدید تحقیق کے مطابق اگرروزانہ دوسیب کھا لیے جائیں تو کولیسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے

ایک جدید تحقیق کے مطابق اگرروزانہ دوسیب کھا لیے جائیں تو کولیسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے

According to a new study, if so be consumed daily reduces cholesterol levels dusybایک جدید تحقیق کے مطابق اگرروزانہ دوسیب کھا لیے جائیں تو کولیسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے

یک جدید تحقیق کے مطابق اگر روزانہ دوسیب کھا لیے جائیں تو کولیسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے۔سیب کھانے کا صرف یہی ایک فائدہ نہیں،بلکہ اور فائدے بھی ہیں۔یہ جملہ آپ نے کتابوں میں پڑھا اور سُنا ہوگا کہ اگر آپ خود کو ڈاکٹر سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو روزانہ ایک سیب کھائیں۔یہ سچ ہے،اس لیے کہ سیب کا شمار بہت مفید پھلوں میں کیا جاتا ہے۔

بلڈ پریشر:

ماہرین صحت کہتے ہیں کہ سیب کا رس پینے سے بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ وزن کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔۷۵ گرام کی مقدار میں چھے ماہ تک روزانہ سیب کھانے سے دل کی شریانوں کو بند کرنے والے خراب کولیسٹرول(ایل ڈی ایل) کی سطح میں ایک چوتھائی کمی ہوجاتی ہے۔سیب کا سرکہ بھی بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔اسے بھی کھانا چاہیے۔

جسم کی اکڑن:

موسم کی تبدیلی یا کسی اور وجہ سے مسلسل کھانسی ہونا،سانس کا پھُولنا او ر سینہ جکڑا ہوا ہونا، یہ دمے کی علامتیں ہیں۔ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وہ افراد جو روزانہ سیب کھاتے ہیں۔ان میں دمے کے امکانات ایک تہائی کم ہوجاتے ہیں۔ایسی خوارتین جو حمل کے دنوں میں روزانہ سیب کھاتی ہیں،وہ دمے سے محفوظ رہتی ہیں۔سیب اور اس کا رس دوسرے پھلوں کے مقابلے میں دمے کی شدت کم کرنے میں زیادہ مدد دیتا ہے۔سیب میں موجود مانع تکسید اجزا(ANTIOXIDANTS)
بیماریوں کو کم کرنے یا ختم کرنے کی بھی صلاحیت ہوتی ہے۔سوگرام سیب میں نارنگی کے مقابلے میں تین گنا اور کیلے کے مقابلے میں آتھ گنا زیادہ مانع تکسید اجزا ہوتے ہیں۔سیب کے چھلکے میں مانع تکسید اجزا زیادہ پائے جاتے ہیں،لہٰذا آپ جب بھی سیب کھائیں تو چھلکے سمیت کھائیں۔

درد اور جلن:

اگر جسم کے کسی حصے میں کیڑے کے کاٹنے کی وجہ سے درد اور جلن ہو تو متاثرہ حصے پر روئی سے سیب کا رس لگائیں۔یہ درد اور جلن ختم کردیتا ہے۔سیب کے رس میں موجود تیزابی مادہ کیڑے کے ڈنک کا اثر زائل کردیتا ہے۔جیلی فش،بھڑ اور شہد کی مکھی کی کاٹی ہوئی جگہ پر بھی سیب کا رس لگانا فائدہ مند ہے۔روئی سے متاثرہ جگہ پر رس لگائیں تو درد اور جلن ختم ہو جاتی ہے۔

مسوڑوں کی تکلیف:

سیب میں جراثیم ختم کرنے کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔اگر قدرے کچے ایک سیب کو خوب چبا کر کھالیا جائے تواس سے مسوڑے مضبوط ہوجاتے ہیں،کیوں کہ چبانے کے عمل میں جبڑے باربار حرکت ہیں،جس سے مسوڑوں میں خون کی روانی تیز ہو جاتی ہے اور انھیں فائدہ پہنچتا ہے۔مسوڑوں کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے روزانہ ایک سیب خوب چبا کر کھائیں۔

ہڈیوں کی بوسیدگی:

بڑھاپے میں ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں۔ان میں بوسیدگی اور بھُر بھُراپن پیدا ہوجاتا ہے۔پھر یہ آسانی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔سن یاس کو پہنچنے والی خواتین ہڈیوں کے بھُربھُرے پن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ضرورت سے زیادہ اور کم ورزش سے بھی یہ عارضہ لاحق ہوجاتا ہے۔ایسی غذائیں کھانے سے بھی ہڈیوں میں بوسیدگی پیداہوجاتی ہے،جن میں کیلسیئم کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔حیاتین (وٹامن دی) کی کمی سے بھی ہڈیوں میں بھُربھُراپن پیدا ہوجاتا ہے۔ایسے افراد جو اس عارضے میں مبتلا ہوں،انہیں چاہیے کہ وہ صبح وشام دھوپ میں بیٹھیں۔سیب میں ایسے اجزاہوتے ہیں،جو نہ صرف جراثیم کا خاتمہ کردیتے ہیں،بلکہ ہڈیوں کی بوسیدگی سے بھی بچاتے ہیں۔سیب کے چھلکے میں ایک جزو”پیکٹن“
(PECTIN ) بھی پایا جاتا ہے،جو جسم میں کیلسیئم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو شروع ہی سے پھل زیادہ کھانے کی طرف راغب کریں،خاص طور پر سیب۔

قوت مدافعت میں اضافہ:

ایک درمیانے سائز کے سیب میں کیلسیئم کی اتنی مقدار ہوتی ہے،جو آپ کی جسمانی ضرورت کو ۸ فی صد تک پورا کردیتی ہے۔کیلسیئم کی یہ مقدار قوت مدافعت میں اضافہ کرتی ہے۔سیب میں پایا جانے والا جزو”پیکٹن“ جب ہضم ہوجاتا ہے تو جسم میں اچھے بیکٹیریا میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس طرح ضدِاجسام
(ANTIBODIES) اور سفید خلیات کی پیداوار بڑھ جاتی ہے،جوبیماریوں کے خلاف لڑتے ہیں۔اگر آپ قوتِ مدافعت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو روزانہ ایک سیب کھائیں۔

ایام میں بے قاعدگی:

جو خواتین ایام میں بے قاعدگی کا شکار ہوں، انھیں چاہیے کہ وہ روزانہ سیب کھائیں۔اس سے ایسٹروجن کی سطح متوازن رہتی ہے اور اس طرح ایام میں بے قاعدگی دُور ہوجاتی اور دور ختم ہوجاتا ہے۔ایک گلاس پانی میں دوچائے کے چمچ سیب کا سرکہ ملاکر دن میں دو سے تین بار پینے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔

جِلد کے لیے:

سیب میں حیاتین ب اور ج کے علاوہ معمولی سی مقدار میں حیاتین ھ (وٹامن ای) بھی پائی جاتی ہے،جو جِلد کو مضراثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون/ خبر پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔